ہندو مت میں موسیقی کا ایک منفرد مقام ہے، جو صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی سکون کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ جدید سائنسی تحقیق نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مخصوص راگ اور دھنیں انسانی دماغ اور جسم پر مثبت اثر ڈال سکتی ہیں۔ اس آرٹیکل میں، ہم ہندو مذہب میں موسیقی کے تاریخی پس منظر، مختلف راگوں کے علاجی اثرات، اور جدید دنیا میں موسیقی سے علاج کے رجحان پر روشنی ڈالیں گے۔
ہندو مت میں موسیقی کی روحانی اہمیت
ہندو مت میں موسیقی کو محض ایک فن کے بجائے روحانی ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ قدیم ویدوں اور اپنشدوں میں موسیقی کے ذریعے ذہنی سکون حاصل کرنے اور دیوتاؤں کو راضی کرنے کے طریقے درج ہیں۔ خاص طور پر “ساما وید” کو موسیقی سے منسلک وید کہا جاتا ہے، جس میں مختلف راگوں کے ذکر ملتے ہیں۔
اہم نکات:
- “اوم” کی گونج اور اس کے ارتعاش کو ذہنی سکون کے لیے موثر مانا جاتا ہے۔
- منتر جاپ کے دوران مخصوص سر اور تال کا خیال رکھا جاتا ہے۔
- کئی ہندو مذہبی رسومات میں بھجن اور کیرتن کو لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔
جدید دور میں بھی کئی افراد مراقبے کے دوران ہندو موسیقی کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنے ذہنی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
راگ تھراپی: مخصوص راگوں کے علاجی اثرات
ہندوستانی موسیقی میں ہر راگ کا ایک منفرد اثر ہوتا ہے جو مختلف جسمانی اور ذہنی کیفیات کو متاثر کر سکتا ہے۔ ہندو مت میں، مخصوص راگوں کو مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
مختلف راگ اور ان کے اثرات:
- راگ بھیرو: ذہنی سکون اور صبح کے وقت توانائی فراہم کرنے کے لیے۔
- راگ درباری: بے خوابی اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے۔
- راگ یاگیا: نظام ہضم کو بہتر بنانے کے لیے۔
- راگ ملتانی: دل کی صحت اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے کے لیے۔
ان راگوں کو سننے یا گانے سے انسان کے ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور کئی ماہرین اسے “میوزک تھراپی” کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔
موسیقی سے علاج کے سائنسی پہلو
جدید سائنس نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ موسیقی انسانی دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ تحقیق کے مطابق، مخصوص دھنیں سننے سے دماغ میں “ڈوپامین” نامی خوشی کے ہارمون کا اخراج ہوتا ہے، جو ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
سائنسی تحقیقات سے حاصل شدہ نتائج:
- موسیقی سے دماغی لہروں میں تبدیلی آتی ہے، جو سکون اور ارتکاز بڑھاتی ہیں۔
- دھیما اور مدھم ساز اضطراب اور بے چینی کو کم کرتا ہے۔
- کلاسیکی موسیقی سننے سے نیند کے معیار میں بہتری آتی ہے۔
- راگ تھراپی کو کئی ذہنی بیماریوں جیسے کہ ڈپریشن اور بے چینی کے علاج میں مددگار پایا گیا ہے۔
ہندو عبادات میں موسیقی کا کردار
ہندو مذہب میں عبادات کے دوران موسیقی کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ چاہے وہ مندروں میں بجنے والے بھجن ہوں، یا کسی مذہبی تقریب میں ہونے والے کیرتن، موسیقی ہمیشہ روحانی تجربے کا حصہ رہی ہے۔
ہندو عبادات میں موسیقی کے استعمال کی چند مثالیں:
- بھجن: دیوتاؤں کی عقیدت میں گائے جانے والے مذہبی گیت۔
- کیرتن: اجتماعی طور پر گایا جانے والا گیت، جو اجتماعی توانائی کو بڑھاتا ہے۔
- تانترک منتر: مخصوص راگوں میں گائے جانے والے منتر، جنہیں چکر بیداری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
مندروں میں بھجن اور کیرتن گانے سے عقیدت مندوں کے ذہنی سکون میں اضافہ ہوتا ہے، اور وہ زیادہ روحانی تجربہ حاصل کر سکتے ہیں۔
جدید دنیا میں میوزک تھراپی کا رجحان
حالیہ برسوں میں، مغربی دنیا میں بھی میوزک تھراپی کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ہسپتالوں اور طبی مراکز میں مختلف موسیقی کی دھنوں کو تھراپی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
جدید دنیا میں موسیقی سے علاج کے چند طریقے:
- ذہنی بیماریوں کے علاج میں راگ تھراپی کا استعمال۔
- مراقبہ اور یوگا کے دوران مخصوص دھنوں کو شامل کرنا۔
- کلاسیکی ہندوستانی موسیقی کے ذریعے نیند کی بہتری۔
- بچوں میں ارتکاز بڑھانے کے لیے نرم دھنوں کا استعمال۔
اس جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ہندو مت میں صدیوں پہلے بیان کی گئی میوزک تھراپی کی تعلیمات آج بھی مفید ثابت ہو رہی ہیں۔
نتیجہ: ہندو مت اور موسیقی کا اٹوٹ رشتہ
ہندو مت میں موسیقی کو ہمیشہ ایک مقدس اور شفا بخش عنصر سمجھا گیا ہے۔ چاہے وہ منتر جاپ ہو، بھجن ہوں، یا مخصوص راگ، ہر چیز کا ایک خاص روحانی اور علاجی پہلو ہے۔ آج کی جدید دنیا میں بھی، سائنسی تحقیق اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ موسیقی ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثر ڈال سموسیقی سے علاجکتی ہے۔
اگر آپ بھی ذہنی سکون، جسمانی تندرستی، یا روحانی ترقی کے لیے موسیقی سے علاج کو اپنانا چاہتے ہیں تو ہندو موسیقی کے قدیم اصولوں سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
*Capturing unauthorized images is prohibited*